دعا قبول ہونے کی چار نشانیاں

ہم سب سے غلطیاں سرزد ہوتی ہیں اور جب ہم اپنے گناہوں پر نادم ہوتے ہیں تو توبہ کے لیے اپنے خالق کی بارگاہ میں حاضر ہوتے ہیں۔ وہی خالق بہتر جانتا ہے کہ ہماری توبہ قبول ہوئی کہ نہیں البتہ اپنی زندگی میں نظر آنے والی کچھ تبدیلیوں سے ہمیں کسی حد تک اندازہ ضرور ہو سکتا ہے

کہ توبہ کے بعد ہم کس قدر فلاح کے راستے کی جانب گامزن ہوئے قرآن وحدیث کی ہدایت کی روشنی میں کچھ ایسی نشانیاں کے بارے میں بیان کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ جب تمہارے اچھے اعمال سے تمہیں مسرت محسوس ہونے لگے اور برے اعمال سے تکلیف اور غم محسوس ہو تو یہ ایمان کی نشانی ہے۔

اسی طرح جب انسان اپنے گناہوں سے سچے دل کے ساتھ توبہ کرلے اور یہ عہد کرے کہ وہ دوبارہ گناہ کی جانب مائل نہیں ہوگا تو اسے اپنے خالق سے رحم اور مغفرت کی پوری امید رکھنی چاہیے۔ توبہ دراصل اپنے گناہوں پر گہرا دکھ اور ندامت محسوس کرنے کا ہی دوسرا نام ہے۔ جب انسان اپنے طرز عمل کو بدلنے کے لیے بے

قرار ہو جاتا ہے تو یہ اس بات کی نشانی ہے کہ پروردگار نے اس پر کرم کر دیا ہے اور اسے ہدایت کا راستہ دکھادیاہے۔ علماء کہتے ہیں کہ دل کی اس بے قراری کا خاتمہ صرف اللہ تعالی کی رضا وخوشنودی کے حصول سے ممکن ہے۔ اگر احساس ندامت اور توبہ کے بعد آپ کے دل کو قرار نصیب ہوجاتا ہے

تو علماء کے نزدیک یہ اس بات کی علامت ہے کہ پروردگار نے آپ کی توبہ قبول فرمائی اور آپ کے دل کو اطمینان بخش دیا ہے۔ اکثر لوگ دعا کرتے اور اسکے قبول نہ ہونے پر پریشان بھی ہوتے ہیں حالانکہ کسی کی دعا رد نہیں ہوتی ۔اسکی قبولیت کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے ۔

سورہ البقرہ میں اللہ تعالٰی کا فرمان ہے”جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں ہر پکارنے والے کی پکار کو جب بھی وہ مجھے پکارے قبول کرتا ہوں اس لئے لوگوں کو بھی چاہیے وہ میری بات مان لیا کریں اور مجھ پر ایمان رکھیں یہی ان کی بھلائی کا باعث ہے۔

آلودگی بالخصوص فضائی آلودگی سرحدوں سے بالاتر ہوتی ہے

]]>

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں